تم نے دیکھا ہے کبھی دل یہ ہمارا ٹوٹا
تم نے دیکھا ہے کبھی دل یہ ہمارا ٹوٹا
دیکھنے آتا ہے ہر شام ستارا ٹوٹا
ریگ ساحل پہ کسی نام کا آنسو ٹپکا
موج بیتاب سے دریا کا کنارا ٹوٹا
دل کی اک سمت بنایا تھا کوئی شیش محل
غم کی آندھی میں مگر سارے کا سارا ٹوٹا
تیز رفتار سفر سے تو گریزاں ہی رہے
ہم کسی یاد میں گم تھے کہ اشارا ٹوٹا
ہم تو سمجھے تھے محبت میں بڑی طاقت ہے
یہ بھرم بھی تو سر حسن ہمارا ٹوٹا
ایک مضبوط تعلق ہے شکستہ منظرؔ
خود کو برباد کیا اس کو سنوارا ٹوٹا