اک عریضہ ہے دل مشتاق میں رکھا ہوا
اک عریضہ ہے دل مشتاق میں رکھا ہوا آفتاب عشق ہے آفاق میں رکھا ہوا زندگی کا ذائقہ مجھ کو تواتر سے ملا زہر میں رکھا ہوا تریاق میں رکھا ہوا نفرتوں کے سب نوشتے اس نے ازبر کر لیے ہے محبت کا صحیفہ طاق میں رکھا ہوا بلوۂ باطل میں حق کی خامشی کا ساتھ دو یہ بھی نکتہ ہے مرے میثاق میں رکھا ...