دیار عشق میں آتے کبھو رتوں کے لیے
دیار عشق میں آتے کبھو رتوں کے لیے
بھٹکتے پھرتے ہو کیوں تم مہورتوں کے لیے
نہ جانے کونسے لمحوں کے انتظار میں ہو
ذرا بھی وقت نہیں ہے کدورتوں کے لیے
کسی کسی کو ہے معلوم درد اندر کا
کہ ہم تو ہنستے رہے خوب صورتوں کے لیے
بہت ہیں چاہنے والے گھمنڈ رکھتے ہو
ہمیں بھی چاہا تھا سب نے ضرورتوں کے لیے
ہمارے چہرے پہ کچھ خال نقش ہیں منظرؔ
بہت ضروری ہیں آیات صورتوں کے لیے