جہاں پہ پھول تھے اور یاد بھی تمہاری تھی

جہاں پہ پھول تھے اور یاد بھی تمہاری تھی
اسی پڑاؤ پہ ہم نے تھکن اتاری تھی


اسی کا عکس تھا وہ چاند تھا کہ سورج تھا
مگر وہ دیکھنے والی نظر ہماری تھی


سبک خرام چلا اور کبھی میں ٹھہرا رہا
کہ میری اپنے ہی سائے سے جنگ جاری تھی


میں اپنے خواب کے اندر بھی خواب دیکھتا تھا
کھلی جب آنکھ تو اک کپکپی سی طاری تھی


میں اس کے دل سے جب اترا تو زخم آئے نظر
کہ اس کے میٹھے سے لہجے میں سنگ باری تھی


میں اس کے ہجر کی آتش میں کچھ جلا ایسے
کڑا تھا دن بھی بہت رات مجھ پہ بھاری تھی


میں شاخ دل سے اٹھاتا تھا پھول گریہ کے
عدو کی آنکھ میں منظر وہ تیز آری تھی