Majid Ali Kavish

ماجد علی کاوش

  • 1949

ماجد علی کاوش کی غزل

    یہ دوستی یہ محبت یہ انکسار فریب

    یہ دوستی یہ محبت یہ انکسار فریب یہ ہم نوا یہ معاون یہ میرے یار فریب قدم قدم پہ تعلق قدم قدم رشتے یہ بار بار دلاسے یہ بار بار فریب نقاب اتنے ہیں چہروں پہ کیا ہٹاؤ گے ہر ایک بار ہٹاؤ ہر ایک بار فریب عجیب رنگ وفا ہے عجیب طرز ستم نہ دل پذیر محبت نہ شاندار فریب خلش جگر میں ہے اور ...

    مزید پڑھیے

    ضرورت بے ضرورت بولتی ہے

    ضرورت بے ضرورت بولتی ہے جہاں دولت ہو دولت بولتی ہے محبت کار فرما ہے ہماری ترے چہرے کی رنگت بولتی ہے پرکھنے کا ذرا سا تجربہ ہو ہر اک شے اپنی قیمت بولتی ہے زباں اور آنکھ دونوں بند رکھنا قبیلے سے قیادت بولتی ہے یہ ہوتا ہے جو ہمت ہار بیٹھو کہ بڑھ چڑھ کر مصیبت بولتی ہے چمکنا ہے تو ...

    مزید پڑھیے

    بے وفا ہے با وفا ہے فیصلہ ہوتا نہیں

    بے وفا ہے با وفا ہے فیصلہ ہوتا نہیں اس سے مل کر بھی حقیقت کا پتا ہوتا نہیں جب چمکتی شاہراہیں سامنے موجود ہوں مجھ سے پھر پگڈنڈیوں پر اکتفا ہوتا نہیں درد کے رشتوں کی اپنی اک الگ ہے داستاں فاصلہ ہوتا ہے پھر بھی فاصلہ ہوتا نہیں پیشہ ور لوگوں سے کیا لیں زندگی پر تبصرہ نیند اور ...

    مزید پڑھیے

    بوند کو بوند سمندر کو سمندر کہنا

    بوند کو بوند سمندر کو سمندر کہنا سامنے کوئی ہو سچائی کو کھل کر کہنا قافلے والوں کے اس صبر و تحمل کو سلام کوئی آسان ہے رہزن کو بھی رہبر کہنا نیکیاں ملتی ہیں نسبت سے بزرگوں کی میاں یہ بھی تبلیغ ہے اس بات کو گھر گھر کہنا باز با باز کبوتر با کبوتر رکھیے کچھ مناسب نہیں ہر اک کو ہمسر ...

    مزید پڑھیے

    ایسے چپ رہ کے فائدہ کیا ہے

    ایسے چپ رہ کے فائدہ کیا ہے کچھ تو کہیے کہ ماجرا کیا ہے ان سے شکوہ ہے کیا گلا کیا ہے جو نہیں جانتے وفا کیا ہے جب نہ ارماں نہ آرزو کوئی دل بچا بھی تو پھر بچا کیا ہے اب تو آنکھوں میں آ گئے آنسو اب کسی سے ڈھکا چھپا کیا ہے کس کی منزل ہے اس خرابے میں دل ناداں تو ڈھونڈھتا کیا ہے آئنہ ...

    مزید پڑھیے

    کوئی وعدہ ترا وفا ہونا

    کوئی وعدہ ترا وفا ہونا دن میں تاروں کا رونما ہونا کچھ بھی دیکھو مگر زباں نہ کھلے کتنا مشکل ہے آئنہ ہونا منزلوں کی تلاش بعد میں ہے چاہیے پہلے حوصلہ ہونا حسن جاناں کے ذکر ہی سے ہے کچھ غزل میں نیا نیا ہونا کچھ تقاضے بھی ہیں محبت کے کچھ تو انداز دل ربا ہونا

    مزید پڑھیے

    ابتدا کا انتہا سے رابطہ باندھے ہوئے

    ابتدا کا انتہا سے رابطہ باندھے ہوئے گھر سے نکلا ہوں سفر کا مدعا باندھے ہوئے بے یقینی کا یہ عالم ہو گیا ہے آج کل آدمی دس دس جگہ ہے آسرا باندھے ہوئے وہ تو اس کے حکم سے ہوتا ہے جو بھی فیض ہو کیمیا کب ہے شفا کا مادہ باندھے ہوئے فکر و فن کی محفلوں میں اب یہ منظر عام ہیں بے ہنر بے علم ...

    مزید پڑھیے

    اس حسن بے کراں کو خدا آگہی بھی دے

    اس حسن بے کراں کو خدا آگہی بھی دے دریا دیا ہے اس کو تو دریا دلی بھی دے خود کو نہ بھول جاؤں تو کیا سجدۂ وفا اللہ میرے عشق کو دیوانگی بھی دے اس سنگ دل سے ہم کو محبت کی آس ہے سورج سے چاہتے ہیں ہمیں چاندنی بھی دے پتھر کے ہم سروں میں اتارا تری رضا اب کم سے کم شعور فن آذری بھی دے اس کو ...

    مزید پڑھیے

    ملنے کوئی مجھ سے مرے اندر نہیں آتا

    ملنے کوئی مجھ سے مرے اندر نہیں آتا اندر مرے جو بھی ہے وہ باہر نہیں آتا کیوں آئے ہو میرے لیے دستور نہ بدلو دریا کے لیے کوئی سمندر نہیں آتا اس کرب کا عالم تو مسافر ہی سے پوچھو جب شام گزر جاتی ہے اور گھر نہیں آتا سچ بات تو یہ ہے کہ کرے بھی تو کوئی کیا آتا ہے برا وقت تو کہہ کر نہیں ...

    مزید پڑھیے

    یہ طرز جور یہ انداز دل دکھانے کے

    یہ طرز جور یہ انداز دل دکھانے کے وہ پوچھتے ہیں ہمارے ہو یا زمانے کے ہمارے گھر کو لگی آگ جن چراغوں سے قصوروار ہمی تھی انہیں جلانے کے وہ جن کے واسطے ٹھکرا دیا زمانے کو وہ دے رہے ہیں مجھے واسطے زمانے کے ہمارے عہد کی تاریخ ہم سے مت پوچھو وہ واقعات نہیں ہیں سنائے جانے کے میں دے رہا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2