Majid Ali Kavish

ماجد علی کاوش

  • 1949

ماجد علی کاوش کی غزل

    رشتے بنے ہوئے ہیں سبھی کے سبھی کے ساتھ

    رشتے بنے ہوئے ہیں سبھی کے سبھی کے ساتھ وابستگی نہیں ہے کسی کی کسی کے ساتھ ٹوٹا ہے اک ستارہ ابھی آسمان سے پھر بے وفائی کی ہے کسی نے کسی کے ساتھ روشن گھروں میں بانٹ دی پھر روشنی تمام انصاف یہ ہوا ہے مری تیرگی کے ساتھ اتنی تہیں کھلی ہیں کہ کھلتی چلی گئیں اک بات اس نے کی تھی بڑی ...

    مزید پڑھیے

    ہم ان سے مل کے انہی کے اثر میں رہتے ہیں

    ہم ان سے مل کے انہی کے اثر میں رہتے ہیں سفر سے آ کے بھی جیسے سفر میں رہتے ہیں وہ قہقہے جنہیں ہونٹوں کا در نصیب نہیں وہ اشک بن کے مری چشم تر میں رہتے ہیں ہمارے عشق کے تحفے کو احتیاط سے رکھ بہت سے لوٹنے والے نگر میں رہتے ہیں بھلائے گا کوئی کیسے کرم رفیقوں کے یہ تیر وہ ہیں جو ہر دم ...

    مزید پڑھیے

    کچھ ایسا تو ابھی سوچا نہیں ہے

    کچھ ایسا تو ابھی سوچا نہیں ہے کہ جو میرا ہے وہ اس کا نہیں ہے مروت سے ذرا دھندلی ہیں آنکھیں یہ مت سمجھو نظر آتا نہیں ہے ابھی کل ہی تو کچھ وعدے کیے تھے تمہارا حافظہ اچھا نہیں ہے یہی تو جڑ ہے ساری نفرتوں کی محبت کو کوئی سمجھا نہیں ہے تم عورت ہو ذرا محتاط رہنا زمانہ اس قدر بدلا ...

    مزید پڑھیے

    غم سے نہ آنسوؤں سے نہ دیوانگی سے ہم

    غم سے نہ آنسوؤں سے نہ دیوانگی سے ہم واقف نہیں تھے آپ سے پہلے کسی سے ہم زندہ رکھیں بزرگوں کی ہم نے روایتیں دشمن سے بھی ملے تو ملے عاجزی سے ہم سب سرپھری ہواؤں کو دشمن بنا لیا روشن ہوئے تھے لڑنے کو اک تیرگی سے ہم سانسیں مہک رہی ہیں نگاہوں میں نور ہے پھر آج مل کے آئے ہیں اک آدمی سے ...

    مزید پڑھیے

    سب کے چہروں پہ کوئی چہرہ ہے

    سب کے چہروں پہ کوئی چہرہ ہے کوئی دشمن ہے کوئی اپنا ہے میری آنکھوں میں خواب ہیں تیرے تیری آنکھوں میں کون رہتا ہے مجھ سے مجھ کو کبھی تو ملنے دے مجھ سے میرا بھی کوئی رشتہ ہے سوچتا ہوں کہ ان گلابوں میں روپ کس کا ہے رنگ کس کا ہے آ کہ دنیا کو اب بتا بھی دوں چاند اک اور میں نے ڈھونڈا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2