کوئی وعدہ ترا وفا ہونا
کوئی وعدہ ترا وفا ہونا
دن میں تاروں کا رونما ہونا
کچھ بھی دیکھو مگر زباں نہ کھلے
کتنا مشکل ہے آئنہ ہونا
منزلوں کی تلاش بعد میں ہے
چاہیے پہلے حوصلہ ہونا
حسن جاناں کے ذکر ہی سے ہے
کچھ غزل میں نیا نیا ہونا
کچھ تقاضے بھی ہیں محبت کے
کچھ تو انداز دل ربا ہونا