یہ دوستی یہ محبت یہ انکسار فریب

یہ دوستی یہ محبت یہ انکسار فریب
یہ ہم نوا یہ معاون یہ میرے یار فریب


قدم قدم پہ تعلق قدم قدم رشتے
یہ بار بار دلاسے یہ بار بار فریب


نقاب اتنے ہیں چہروں پہ کیا ہٹاؤ گے
ہر ایک بار ہٹاؤ ہر ایک بار فریب


عجیب رنگ وفا ہے عجیب طرز ستم
نہ دل پذیر محبت نہ شاندار فریب


خلش جگر میں ہے اور تجزیہ ہے آنکھوں کا
بڑے سلیقے سے دیتے ہیں غم گسار فریب


مری حیات مرے روز و شب مری دنیا
یہ اختیار نمائش یہ اعتبار فریب