Majid Ali Kavish

ماجد علی کاوش

  • 1949

ماجد علی کاوش کے تمام مواد

15 غزل (Ghazal)

    یہ دوستی یہ محبت یہ انکسار فریب

    یہ دوستی یہ محبت یہ انکسار فریب یہ ہم نوا یہ معاون یہ میرے یار فریب قدم قدم پہ تعلق قدم قدم رشتے یہ بار بار دلاسے یہ بار بار فریب نقاب اتنے ہیں چہروں پہ کیا ہٹاؤ گے ہر ایک بار ہٹاؤ ہر ایک بار فریب عجیب رنگ وفا ہے عجیب طرز ستم نہ دل پذیر محبت نہ شاندار فریب خلش جگر میں ہے اور ...

    مزید پڑھیے

    ضرورت بے ضرورت بولتی ہے

    ضرورت بے ضرورت بولتی ہے جہاں دولت ہو دولت بولتی ہے محبت کار فرما ہے ہماری ترے چہرے کی رنگت بولتی ہے پرکھنے کا ذرا سا تجربہ ہو ہر اک شے اپنی قیمت بولتی ہے زباں اور آنکھ دونوں بند رکھنا قبیلے سے قیادت بولتی ہے یہ ہوتا ہے جو ہمت ہار بیٹھو کہ بڑھ چڑھ کر مصیبت بولتی ہے چمکنا ہے تو ...

    مزید پڑھیے

    بے وفا ہے با وفا ہے فیصلہ ہوتا نہیں

    بے وفا ہے با وفا ہے فیصلہ ہوتا نہیں اس سے مل کر بھی حقیقت کا پتا ہوتا نہیں جب چمکتی شاہراہیں سامنے موجود ہوں مجھ سے پھر پگڈنڈیوں پر اکتفا ہوتا نہیں درد کے رشتوں کی اپنی اک الگ ہے داستاں فاصلہ ہوتا ہے پھر بھی فاصلہ ہوتا نہیں پیشہ ور لوگوں سے کیا لیں زندگی پر تبصرہ نیند اور ...

    مزید پڑھیے

    بوند کو بوند سمندر کو سمندر کہنا

    بوند کو بوند سمندر کو سمندر کہنا سامنے کوئی ہو سچائی کو کھل کر کہنا قافلے والوں کے اس صبر و تحمل کو سلام کوئی آسان ہے رہزن کو بھی رہبر کہنا نیکیاں ملتی ہیں نسبت سے بزرگوں کی میاں یہ بھی تبلیغ ہے اس بات کو گھر گھر کہنا باز با باز کبوتر با کبوتر رکھیے کچھ مناسب نہیں ہر اک کو ہمسر ...

    مزید پڑھیے

    ایسے چپ رہ کے فائدہ کیا ہے

    ایسے چپ رہ کے فائدہ کیا ہے کچھ تو کہیے کہ ماجرا کیا ہے ان سے شکوہ ہے کیا گلا کیا ہے جو نہیں جانتے وفا کیا ہے جب نہ ارماں نہ آرزو کوئی دل بچا بھی تو پھر بچا کیا ہے اب تو آنکھوں میں آ گئے آنسو اب کسی سے ڈھکا چھپا کیا ہے کس کی منزل ہے اس خرابے میں دل ناداں تو ڈھونڈھتا کیا ہے آئنہ ...

    مزید پڑھیے

تمام