ایسے چپ رہ کے فائدہ کیا ہے
ایسے چپ رہ کے فائدہ کیا ہے
کچھ تو کہیے کہ ماجرا کیا ہے
ان سے شکوہ ہے کیا گلا کیا ہے
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
جب نہ ارماں نہ آرزو کوئی
دل بچا بھی تو پھر بچا کیا ہے
اب تو آنکھوں میں آ گئے آنسو
اب کسی سے ڈھکا چھپا کیا ہے
کس کی منزل ہے اس خرابے میں
دل ناداں تو ڈھونڈھتا کیا ہے
آئنہ دیکھ لو بتا دے گا
سچ ہے کتنا مغالطہ کیا ہے
ایک چہرہ ہے آنکھ میں ہر دم
دل سے پوچھیں معاملہ کیا ہے
یہ بھی غالبؔ کا فیض ہے کاوشؔ
میں نے جو کچھ کہا کہا کیا ہے