اس حسن بے کراں کو خدا آگہی بھی دے

اس حسن بے کراں کو خدا آگہی بھی دے
دریا دیا ہے اس کو تو دریا دلی بھی دے


خود کو نہ بھول جاؤں تو کیا سجدۂ وفا
اللہ میرے عشق کو دیوانگی بھی دے


اس سنگ دل سے ہم کو محبت کی آس ہے
سورج سے چاہتے ہیں ہمیں چاندنی بھی دے


پتھر کے ہم سروں میں اتارا تری رضا
اب کم سے کم شعور فن آذری بھی دے


اس کو اگر دیا ہے چٹانوں سا کر و فر
دریا کی موج جیسی مجھے خود سری بھی دے