بوند کو بوند سمندر کو سمندر کہنا
بوند کو بوند سمندر کو سمندر کہنا
سامنے کوئی ہو سچائی کو کھل کر کہنا
قافلے والوں کے اس صبر و تحمل کو سلام
کوئی آسان ہے رہزن کو بھی رہبر کہنا
نیکیاں ملتی ہیں نسبت سے بزرگوں کی میاں
یہ بھی تبلیغ ہے اس بات کو گھر گھر کہنا
باز با باز کبوتر با کبوتر رکھیے
کچھ مناسب نہیں ہر اک کو ہمسر کہنا
گفتگو کے ہیں کچھ آداب غزل والوں میں
زلف کو کالی گھٹا آنکھ کو ساغر کہنا