ملنے کوئی مجھ سے مرے اندر نہیں آتا
ملنے کوئی مجھ سے مرے اندر نہیں آتا
اندر مرے جو بھی ہے وہ باہر نہیں آتا
کیوں آئے ہو میرے لیے دستور نہ بدلو
دریا کے لیے کوئی سمندر نہیں آتا
اس کرب کا عالم تو مسافر ہی سے پوچھو
جب شام گزر جاتی ہے اور گھر نہیں آتا
سچ بات تو یہ ہے کہ کرے بھی تو کوئی کیا
آتا ہے برا وقت تو کہہ کر نہیں آتا
شاعر تو بہت سے ہیں مگر جوشؔ تھے پھر جوشؔ
سب کے لیے الفاظ کا لشکر نہیں آتا