Maikash Badayuni

میکش بدایونی

میکش بدایونی کی غزل

    طبیعت بے نیاز جوش وحشت ہو تو سکتی ہے

    طبیعت بے نیاز جوش وحشت ہو تو سکتی ہے جو تم چاہو تو بہتر میری حالت ہو تو سکتی ہے وہ دل لینے چلے ہیں اک نگاہ ناز کے بدلے چلو اس جنس کی بھی کوئی قیمت ہو تو سکتی ہے نہیں اہل وفا کی قدر تیری بزم میں لیکن کبھی ان سرفروشوں کی ضرورت ہو تو سکتی ہے دعائیں مانگتے تھے صبح نو کی یہ نہ سوچا ...

    مزید پڑھیے

    آپ یکتا ہوئے مزا نہ ہوا

    آپ یکتا ہوئے مزا نہ ہوا لطف ہی کیا جو دوسرا نہ ہوا جانے کیا ہوتا حشر ذوق نظر خیر گزری کہ سامنا نہ ہوا وہ شناور ہوں بحر ہستی میں جو کبھی ساحل آشنا نہ ہوا حوصلہ رہ گیا وفا کا مجھے وہ کبھی مائل جفا نہ ہوا کیوں چمکتی ہے برق نزد قفس یہ بھی کیا میرا آشیانہ ہوا لطف اٹھاتا کسی کے ...

    مزید پڑھیے

    دل مطمئن نہیں ہے نظر مطمئن نہیں

    دل مطمئن نہیں ہے نظر مطمئن نہیں اس دور ابتلا میں بشر مطمئن نہیں کیف بہار بزم طرب رقص جام مے کس کام کے ہیں دل ہی اگر مطمئن نہیں عالم کسی کے تیر نظر کا شکار ہے پھر بھی کسی کا تیر نظر مطمئن نہیں کیا جانے کس مقام پہ یہ ساتھ چھوڑ دیں ان رہبروں سے اہل سفر مطمئن نہیں سو بار آشیانہ ...

    مزید پڑھیے

    آشیاں پر کرم برق تپاں ہے اب بھی

    آشیاں پر کرم برق تپاں ہے اب بھی دیکھو گلشن کی فضاؤں میں دھواں ہے اب بھی ہم صفیران چمن تم کو مبارک ہو بہار ہم اسیروں کے مقدر میں خزاں ہے اب بھی دور ہے سنگ حوادث کا مگر کیا کہئے دل میں اک کار گہ شیشہ گراں ہے اب بھی اب نہ وہ دل ہے نہ وہ دل کی تمنا لیکن چشم جاناں مری جانب نگراں ہے اب ...

    مزید پڑھیے

    گزری ہوئی رونق کے نشاں لے کے چلے ہم

    گزری ہوئی رونق کے نشاں لے کے چلے ہم لو کشتہ چراغوں کا دھواں لے کے چلے ہم ہے دوش پہ کتنے ہی زمانوں کی وراثت ہر گام پہ اک بار گراں لے کے چلے ہم ہو تیرا برا آرزوئے سنگ حوادث سو کار گہہ شیشہ گراں لے کے چلے ہم اس انجمن ناز میں ہے کون خریدار بیکار متاع دل و جاں لے کے چلے ہم مے خانہ میں ...

    مزید پڑھیے

    حریم دل سے رہ چشم تر سے گزرے ہیں

    حریم دل سے رہ چشم تر سے گزرے ہیں ہزار بار وہ اس رہ گزر سے گزرے ہیں وہ جن کو دیکھ کے لطف حیات ملتا ہے کچھ ایسے دشمن جاں بھی نظر سے گزرے ہیں یہ عطر بار فضائیں یہ پر‌ ضیا جادے بتا رہے ہیں ابھی وہ ادھر سے گزرے ہیں جو زندگی کو خود اپنے سے بد گماں کر دیں وہ حادثے بھی ہماری نظر سے گزرے ...

    مزید پڑھیے

    یہ حادثے مرے فن کو نکھار بھی دیں گے

    یہ حادثے مرے فن کو نکھار بھی دیں گے حیات کو نفس شعلہ بار بھی دیں گے یہ انگلیاں کہ جو رقصاں ہیں ساز عشرت پر ہم ان سے کاکل گیتی سنوار بھی دیں گے خزاں رسیدہ یہ غنچے یہ خار و خس یا سموم چمن کو مژدۂ فصل بہار بھی دیں گے پیام صبح مسرت کہاں مقدر میں کسی طرح جو شب غم گزار بھی دیں گے کچھ ...

    مزید پڑھیے

    گداز دل متاع چشم نم تک بیچ دیتے ہیں

    گداز دل متاع چشم نم تک بیچ دیتے ہیں یہ اہل ہوش الفت کا بھرم تک بیچ دیتے ہیں مناسب دام لگ جائیں تو خوبان پری چہرہ بدن کے لوچ اور زلفوں کے خم تک بیچ دیتے ہیں یہ کیسے پاسبان گلستاں ہیں جو بہاروں میں گلوں کا رنگ و بو شاخوں کا تم تک بیچ دیتے ہیں تجارت پر یہاں بنیاد ہے آپس کے رشتوں ...

    مزید پڑھیے

    کون آیا گیسوؤں کو پریشاں کئے ہوئے

    کون آیا گیسوؤں کو پریشاں کئے ہوئے بربادئ نگاہ کا ساماں کیے ہوئے پھر چاہتا ہوں خنجر قاتل سے ارتباط دشوارئ حیات کو آساں کیے ہوئے پھر ساحل مراد کی ہے دل کو آرزو کشتی کو نذر شورش طوفاں کیے ہوئے پھر ہوں ترے تغافل ظاہر کا شکوہ سنج جاں کو فدائے پرسش پنہاں کیے ہوئے پھر ہیں حریم ناز ...

    مزید پڑھیے

    آلام روزگار کی ماری ہے زندگی

    آلام روزگار کی ماری ہے زندگی پھر بھی ہمیں عزیز ہے پیاری ہے زندگی آسودگان عشرت ہستی کو کیا خبر ہم جانتے ہیں جیسی ہماری ہے زندگی اتنا بتا چکے ہیں کہ کندن بنا دیا شعلوں میں غم کے ہم نے نکھاری ہے زندگی گل شاخ پر کبھی کف گلچیں میں ہے کبھی یکساں جہاں میں کس نے گزاری ہے زندگی ہر لمحہ ...

    مزید پڑھیے