Maikash Badayuni

میکش بدایونی

میکش بدایونی کے تمام مواد

10 غزل (Ghazal)

    طبیعت بے نیاز جوش وحشت ہو تو سکتی ہے

    طبیعت بے نیاز جوش وحشت ہو تو سکتی ہے جو تم چاہو تو بہتر میری حالت ہو تو سکتی ہے وہ دل لینے چلے ہیں اک نگاہ ناز کے بدلے چلو اس جنس کی بھی کوئی قیمت ہو تو سکتی ہے نہیں اہل وفا کی قدر تیری بزم میں لیکن کبھی ان سرفروشوں کی ضرورت ہو تو سکتی ہے دعائیں مانگتے تھے صبح نو کی یہ نہ سوچا ...

    مزید پڑھیے

    آپ یکتا ہوئے مزا نہ ہوا

    آپ یکتا ہوئے مزا نہ ہوا لطف ہی کیا جو دوسرا نہ ہوا جانے کیا ہوتا حشر ذوق نظر خیر گزری کہ سامنا نہ ہوا وہ شناور ہوں بحر ہستی میں جو کبھی ساحل آشنا نہ ہوا حوصلہ رہ گیا وفا کا مجھے وہ کبھی مائل جفا نہ ہوا کیوں چمکتی ہے برق نزد قفس یہ بھی کیا میرا آشیانہ ہوا لطف اٹھاتا کسی کے ...

    مزید پڑھیے

    دل مطمئن نہیں ہے نظر مطمئن نہیں

    دل مطمئن نہیں ہے نظر مطمئن نہیں اس دور ابتلا میں بشر مطمئن نہیں کیف بہار بزم طرب رقص جام مے کس کام کے ہیں دل ہی اگر مطمئن نہیں عالم کسی کے تیر نظر کا شکار ہے پھر بھی کسی کا تیر نظر مطمئن نہیں کیا جانے کس مقام پہ یہ ساتھ چھوڑ دیں ان رہبروں سے اہل سفر مطمئن نہیں سو بار آشیانہ ...

    مزید پڑھیے

    آشیاں پر کرم برق تپاں ہے اب بھی

    آشیاں پر کرم برق تپاں ہے اب بھی دیکھو گلشن کی فضاؤں میں دھواں ہے اب بھی ہم صفیران چمن تم کو مبارک ہو بہار ہم اسیروں کے مقدر میں خزاں ہے اب بھی دور ہے سنگ حوادث کا مگر کیا کہئے دل میں اک کار گہ شیشہ گراں ہے اب بھی اب نہ وہ دل ہے نہ وہ دل کی تمنا لیکن چشم جاناں مری جانب نگراں ہے اب ...

    مزید پڑھیے

    گزری ہوئی رونق کے نشاں لے کے چلے ہم

    گزری ہوئی رونق کے نشاں لے کے چلے ہم لو کشتہ چراغوں کا دھواں لے کے چلے ہم ہے دوش پہ کتنے ہی زمانوں کی وراثت ہر گام پہ اک بار گراں لے کے چلے ہم ہو تیرا برا آرزوئے سنگ حوادث سو کار گہہ شیشہ گراں لے کے چلے ہم اس انجمن ناز میں ہے کون خریدار بیکار متاع دل و جاں لے کے چلے ہم مے خانہ میں ...

    مزید پڑھیے

تمام