آپ یکتا ہوئے مزا نہ ہوا

آپ یکتا ہوئے مزا نہ ہوا
لطف ہی کیا جو دوسرا نہ ہوا


جانے کیا ہوتا حشر ذوق نظر
خیر گزری کہ سامنا نہ ہوا


وہ شناور ہوں بحر ہستی میں
جو کبھی ساحل آشنا نہ ہوا


حوصلہ رہ گیا وفا کا مجھے
وہ کبھی مائل جفا نہ ہوا


کیوں چمکتی ہے برق نزد قفس
یہ بھی کیا میرا آشیانہ ہوا


لطف اٹھاتا کسی کے جلووں کا
دل مرا ہائے آئنہ نہ ہوا


شکوہ بیداد کا تو کیا میکشؔ
لب سے نالہ بھی آشنا نہ ہوا