دل مطمئن نہیں ہے نظر مطمئن نہیں

دل مطمئن نہیں ہے نظر مطمئن نہیں
اس دور ابتلا میں بشر مطمئن نہیں


کیف بہار بزم طرب رقص جام مے
کس کام کے ہیں دل ہی اگر مطمئن نہیں


عالم کسی کے تیر نظر کا شکار ہے
پھر بھی کسی کا تیر نظر مطمئن نہیں


کیا جانے کس مقام پہ یہ ساتھ چھوڑ دیں
ان رہبروں سے اہل سفر مطمئن نہیں


سو بار آشیانہ جلانے کے باوجود
میری طرف سے برق و شرر مطمئن نہیں


فیضان جلوہ اور ذرا عام کیجیے
دل کو تو ہے یقین نظر مطمئن نہیں


میکشؔ کو مے کدہ میں بھی غم سے نہیں مفر
ہیں بادہ خوار جمع مگر مطمئن نہیں