گزری ہوئی رونق کے نشاں لے کے چلے ہم
گزری ہوئی رونق کے نشاں لے کے چلے ہم
لو کشتہ چراغوں کا دھواں لے کے چلے ہم
ہے دوش پہ کتنے ہی زمانوں کی وراثت
ہر گام پہ اک بار گراں لے کے چلے ہم
ہو تیرا برا آرزوئے سنگ حوادث
سو کار گہہ شیشہ گراں لے کے چلے ہم
اس انجمن ناز میں ہے کون خریدار
بیکار متاع دل و جاں لے کے چلے ہم
مے خانہ میں امید کرم لائی تھی میکشؔ
اور بے خئ پیر مغاں لے کے چلے ہم