گداز دل متاع چشم نم تک بیچ دیتے ہیں

گداز دل متاع چشم نم تک بیچ دیتے ہیں
یہ اہل ہوش الفت کا بھرم تک بیچ دیتے ہیں


مناسب دام لگ جائیں تو خوبان پری چہرہ
بدن کے لوچ اور زلفوں کے خم تک بیچ دیتے ہیں


یہ کیسے پاسبان گلستاں ہیں جو بہاروں میں
گلوں کا رنگ و بو شاخوں کا تم تک بیچ دیتے ہیں


تجارت پر یہاں بنیاد ہے آپس کے رشتوں کی
یہاں اہل کرم دست کرم تک بیچ دیتے ہیں


اب اس سے بڑھ کے فکر و ذہن کی توہین کیا ہوگی
کہ ارباب قلم اپنے قلم تک بیچ دیتے ہیں


وقار مے کدہ پر جان دے دیتے ہیں ہم میکشؔ
حرم والے تو ناموس حرم تک بیچ دیتے ہیں