آلام روزگار کی ماری ہے زندگی
آلام روزگار کی ماری ہے زندگی
پھر بھی ہمیں عزیز ہے پیاری ہے زندگی
آسودگان عشرت ہستی کو کیا خبر
ہم جانتے ہیں جیسی ہماری ہے زندگی
اتنا بتا چکے ہیں کہ کندن بنا دیا
شعلوں میں غم کے ہم نے نکھاری ہے زندگی
گل شاخ پر کبھی کف گلچیں میں ہے کبھی
یکساں جہاں میں کس نے گزاری ہے زندگی
ہر لمحہ زندگی کا امانت کسی کی ہے
ہم زندگی کے ہیں نہ ہماری ہے زندگی
مقدور ہو تو اس کو بدل لیں اجل سے ہم
ایسی فراق دوست میں بھاری ہے زندگی
میکشؔ ہمیں کہاں حرم و دیر کی خبر
ہم نے تو مے کدہ میں گزاری ہے زندگی