یہ حادثے مرے فن کو نکھار بھی دیں گے

یہ حادثے مرے فن کو نکھار بھی دیں گے
حیات کو نفس شعلہ بار بھی دیں گے


یہ انگلیاں کہ جو رقصاں ہیں ساز عشرت پر
ہم ان سے کاکل گیتی سنوار بھی دیں گے


خزاں رسیدہ یہ غنچے یہ خار و خس یا سموم
چمن کو مژدۂ فصل بہار بھی دیں گے


پیام صبح مسرت کہاں مقدر میں
کسی طرح جو شب غم گزار بھی دیں گے


کچھ اور سوچو مرے حق میں دشمنوں کہ مجھے
متاع غم تو مرے غم گسار بھی دیں گے


کسے خبر تھی کہ آلام زندگی میکشؔ
خمار بادۂ عشرت اتار بھی دیں گے