حریم دل سے رہ چشم تر سے گزرے ہیں
حریم دل سے رہ چشم تر سے گزرے ہیں
ہزار بار وہ اس رہ گزر سے گزرے ہیں
وہ جن کو دیکھ کے لطف حیات ملتا ہے
کچھ ایسے دشمن جاں بھی نظر سے گزرے ہیں
یہ عطر بار فضائیں یہ پر ضیا جادے
بتا رہے ہیں ابھی وہ ادھر سے گزرے ہیں
جو زندگی کو خود اپنے سے بد گماں کر دیں
وہ حادثے بھی ہماری نظر سے گزرے ہیں
جو تیری یاد کی دولت سے بے نصیب رہے
وہ لمحے زیست کے نا معتبر سے گزرے ہیں
جمال دوست بھی مشتاق یک نظر ہے جہاں
ہم اس بلندئ ذوق نظر سے گزرے ہیں
تمہیں تو ہوگی خبر ساکنان دیر و حرم
سنا ہے حضرت میکشؔ ادھر سے گزرے ہیں