M. Usman Shakir

محمد عثمان شاکر

محمد عثمان شاکر کی غزل

    اداس رت میں ترے بعد کی کہانی ہے

    اداس رت میں ترے بعد کی کہانی ہے سکوت دل ہے ترے غم کی جاں فشانی ہے نہ تیرے ساتھ گزرتے تو ہم گزر جاتے یہی ہے بات اگرچہ ذرا پرانی ہے محبتوں کے ڈسے ہیں تو نفرتیں لا دو کہ یہ بھی اپنے بزرگوں کی اک نشانی ہے وفا کی بات نہ کر خواہشیں بچا اپنی مجھے عزیز تعلق تجھے جوانی ہے گئے دنوں کے ...

    مزید پڑھیے

    تم بھی جشن بہار کر دیکھو

    تم بھی جشن بہار کر دیکھو خود کو پھر سوگوار کر دیکھو جانے والے کبھی نہیں آتے چاہو تو انتظار کر دیکھو ہجر کا وقت کاٹنا مشکل تم ستارے شمار کر دیکھو تیری آنکھوں میں میری صورت ہے نقلی چہرہ اتار کر دیکھو ہم نے ایک عمر ہار مانی ہے اب کے تم بھی تو ہار کر دیکھو درد شاکرؔ بس ایسے سمجھو ...

    مزید پڑھیے

    یہ بازگشت بو اے ہوا اس گلی کی ہے

    یہ بازگشت بو اے ہوا اس گلی کی ہے نیندیں اجاڑنے کی صدا اس گلی کی ہے گو کہ ہمارا دل بھی تھا لٹنے میں پیش پیش لیکن تباہیوں میں خطا اس گلی کی ہے اس کو غم حیات سے مل جائے کنارہ جس کے مقدروں میں دعا اس گلی کی ہے شام و سحر وہ جلوہ نما ہوتی ہے ایسے جیسے کہ وہ ہی لڑکی خدا اس گلی کی ہے

    مزید پڑھیے

    ہے ہجر پھیلا ہوا اور روشنی کم ہے

    ہے ہجر پھیلا ہوا اور روشنی کم ہے محبتوں کے لیے ایک زندگی کم ہے ترا وصال علامت ہے میرے جینے کی اور اب کے جینے کی امید اور بھی کم ہے نہ وہ فراق نہ نفرت نہ انتہائے غم مری حیات میں ہر ایک تیرگی کم ہے تم اپنی نیم سی آنکھوں سے ہی پلا ڈالو مرے لبوں پہ پیالوں کی تشنگی کم ہے مرے مزاج سے ...

    مزید پڑھیے

    ہمیں خبر ہے خراب ہوں گے

    ہمیں خبر ہے خراب ہوں گے ادھورے سپنے عذاب ہوں گے جو کی محبت تو سوچنا کیا سوال ہوں گے جواب ہوں گے ہے یاد مجھ کو کہ کہہ رہے تھے ہمیشہ دل کی کتاب ہوں گے رہیں گے بن کے کسک سی دل میں جو جاگی آنکھوں کے خواب ہوں گے محبتیں مٹ سکی ہیں کس سے یہی سندیسے گلاب ہوں گے اسی ستم گر کے نام ...

    مزید پڑھیے

    کچھ لوگ جو حاصل ہوں گنوائے نہیں جاتے

    کچھ لوگ جو حاصل ہوں گنوائے نہیں جاتے اس طرح خزانے تو لٹائے نہیں جاتے امرت تری باتوں کا ہی کافی ہے اجل کو یوں زہر پیالے تو پلائے نہیں جاتے کیوں ہم سے ہوئے جاتے ہو انجان اچانک اس طرح تو پیمان بھلائے نہیں جاتے جیسے تری یادوں کو سجایا ہے قفس میں ایسے تو شبستاں بھی سجائے نہیں ...

    مزید پڑھیے

    جو ہمارے واسطے سب دین تھے ایمان تھے

    جو ہمارے واسطے سب دین تھے ایمان تھے ان کے ہاتھوں میں فقط غیروں کے ہی دیوان تھے پھر کہا اس نے کہ جب ویران کر دے گی تمہیں زندگی اس کو بتا ہم تو سدا ویران تھے یہ نہیں کہ درد دل درد جگر کا خوف تھا اس کے جانے سے ہمیں کچھ اور بھی نقصان تھے جانے کیوں سارے جہاں کا درد اس دل کو ملا اس جہاں ...

    مزید پڑھیے

    ہجر کے دور میں حالات بدل جاتے ہیں

    ہجر کے دور میں حالات بدل جاتے ہیں پھول مر جاتے ہیں سب پات بدل جاتے ہیں تو نے دیکھا ہے کبھی درد کے صحراؤں میں دھوپ بڑھنے لگے تب ساتھ بدل جاتے ہیں ہم پہ وہ وقت ہے اب چاہے خوشی آئے کہ غم آنکھ نم ہوتی ہے جذبات بدل جاتے ہیں میں نے لوگوں کو بھی موسم کا مقلد پایا بات ہوتی ہی نہیں ہاتھ ...

    مزید پڑھیے

    تیرے بغیر خود سے جدا لگ رہا ہوں آج

    تیرے بغیر خود سے جدا لگ رہا ہوں آج بے لوث چاہتوں کی سزا لگ رہا ہوں آج تم سے بچھڑ کے خود کو عجب فیض ہے ملا میں اپنی خواہشوں کا خدا لگ رہا ہوں آج میں تو تمہارے ہجر میں یوں چور ہو گیا اجڑے ہوئے چمن کی ہوا لگ رہا ہوں آج رسموں کی بھینٹ ایسے چڑھا ہوں میں اے قفس ان بکتی دلہنوں کی ردا لگ ...

    مزید پڑھیے

    مرے سخن کو نیا موڑ دینے آیا تھا

    مرے سخن کو نیا موڑ دینے آیا تھا سہارا دے کے مجھے چھوڑ دینے آیا تھا یہ کیا عجب ہے کہ مانگی تھی ہم نے جس سے بھیک وہ چاہتوں کا محل پھوڑ دینے آیا تھا میں جس کے واسطے اب تک عذاب جاں جھیلوں وہ خوش نصیب مجھے توڑ دینے آیا تھا کسی نے اس کو محبت میں درد بخشا تھا وہ بے وفائی مجھے موڑ دینے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2