یہ بازگشت بو اے ہوا اس گلی کی ہے

یہ بازگشت بو اے ہوا اس گلی کی ہے
نیندیں اجاڑنے کی صدا اس گلی کی ہے


گو کہ ہمارا دل بھی تھا لٹنے میں پیش پیش
لیکن تباہیوں میں خطا اس گلی کی ہے


اس کو غم حیات سے مل جائے کنارہ
جس کے مقدروں میں دعا اس گلی کی ہے


شام و سحر وہ جلوہ نما ہوتی ہے ایسے
جیسے کہ وہ ہی لڑکی خدا اس گلی کی ہے