تم بھی جشن بہار کر دیکھو
تم بھی جشن بہار کر دیکھو
خود کو پھر سوگوار کر دیکھو
جانے والے کبھی نہیں آتے
چاہو تو انتظار کر دیکھو
ہجر کا وقت کاٹنا مشکل
تم ستارے شمار کر دیکھو
تیری آنکھوں میں میری صورت ہے
نقلی چہرہ اتار کر دیکھو
ہم نے ایک عمر ہار مانی ہے
اب کے تم بھی تو ہار کر دیکھو
درد شاکرؔ بس ایسے سمجھو گے
حسرتیں اپنی مار کر دیکھو