ہجر کے دور میں حالات بدل جاتے ہیں

ہجر کے دور میں حالات بدل جاتے ہیں
پھول مر جاتے ہیں سب پات بدل جاتے ہیں


تو نے دیکھا ہے کبھی درد کے صحراؤں میں
دھوپ بڑھنے لگے تب ساتھ بدل جاتے ہیں


ہم پہ وہ وقت ہے اب چاہے خوشی آئے کہ غم
آنکھ نم ہوتی ہے جذبات بدل جاتے ہیں


میں نے لوگوں کو بھی موسم کا مقلد پایا
بات ہوتی ہی نہیں ہاتھ بدل جاتے ہیں


تم ابھی آئے ہو تم بانٹ لو چاہت کے ورق
وقت کے ساتھ خیالات بدل جاتے ہیں


پہلے تھا بھوک کا ڈر اب ہے ردا خطرے میں
کیا خبر تھی ہمیں خطرات بدل جاتے ہیں


یہ تو فطرت ہے برا ان کو نہ کہنا شاکرؔ
تو نے دیکھا نہیں دن رات بدل جاتے ہیں