M. Usman Shakir

محمد عثمان شاکر

محمد عثمان شاکر کی غزل

    میں سب کچھ چھوڑ دینا چاہتا ہوں

    میں سب کچھ چھوڑ دینا چاہتا ہوں دلوں کو جوڑ دینا چاہتا ہوں میں اپنی چاہتیں تم پر لٹا کر غموں کو موڑ دینا چاہتا ہوں یہ کیسے آج تم نے کہہ دیا ہے تعلق توڑ دینا چاہتا ہوں لیے پھرتے ہیں جو ہاتھوں میں بچے وہ کاسے پھوڑ دینا چاہتا ہوں میں شاکرؔ بے ردا بہنوں کے سر پہ ردائیں اوڑھ دینا ...

    مزید پڑھیے

    اس دل کو اگر تیرا سہارا نہیں ملتا

    اس دل کو اگر تیرا سہارا نہیں ملتا قسمت کو کوئی چاند ستارہ نہیں ملتا گھیرا ہے کسی خوف نے اس طرح سے دل کو ملتا ہے جو اک بار دوبارہ نہیں ملتا کچھ تم بھی محبت میں ہو تقدیر کے قائل کچھ مجھ کو بھی چلنے کا اشارہ نہیں ملتا یوں ڈوب گیا ہوں تری آنکھوں کے بھنور میں اب میرے سفینے کو کنارہ ...

    مزید پڑھیے

    ترے فراق کے قصے ترے وصال کے دکھ

    ترے فراق کے قصے ترے وصال کے دکھ بھلا نہ پائے ہم اب تک وہ ماہ و سال کے دکھ ترے بغیر ہمیں زندگی سے کیا لینا یہی بہت ہے جو کٹ جائیں تجھ کمال کے دکھ حوا کی بیٹی ہوئی قتل بھائی کے ہاتھوں کوئی نہ سمجھے گا ہیروں کے ماہیوال کے دکھ وہ بچپنا وہ محبت بھلائے کب ہم نے وہ سوکھے پھول ترے خط اور ...

    مزید پڑھیے

    اب وفا کا ثبوت کیا دوں میں

    اب وفا کا ثبوت کیا دوں میں ساری دنیا کہو بھلا دوں میں میں نے اپنوں سے دور جانا ہے زندگی آ تجھے سلا دوں میں اک تری ضد نہ ٹوٹنے پائی ورنہ تو عرش تک ہلا دوں میں تم مجھے موت کی دعائیں دو زندگی کی تجھے دعا دوں میں تم جفاؤں میں کیا کروگے کمی گر وفائیں ذرا بڑھا دوں میں بہتری تو اسی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2