مرے سخن کو نیا موڑ دینے آیا تھا
مرے سخن کو نیا موڑ دینے آیا تھا
سہارا دے کے مجھے چھوڑ دینے آیا تھا
یہ کیا عجب ہے کہ مانگی تھی ہم نے جس سے بھیک
وہ چاہتوں کا محل پھوڑ دینے آیا تھا
میں جس کے واسطے اب تک عذاب جاں جھیلوں
وہ خوش نصیب مجھے توڑ دینے آیا تھا
کسی نے اس کو محبت میں درد بخشا تھا
وہ بے وفائی مجھے موڑ دینے آیا تھا
وہ جاتے جاتے مجھے کرچیوں میں بانٹ گیا
جو کہہ رہا تھا مجھے جوڑ دینے یا تھا