ہمیں خبر ہے خراب ہوں گے
ہمیں خبر ہے خراب ہوں گے
ادھورے سپنے عذاب ہوں گے
جو کی محبت تو سوچنا کیا
سوال ہوں گے جواب ہوں گے
ہے یاد مجھ کو کہ کہہ رہے تھے
ہمیشہ دل کی کتاب ہوں گے
رہیں گے بن کے کسک سی دل میں
جو جاگی آنکھوں کے خواب ہوں گے
محبتیں مٹ سکی ہیں کس سے
یہی سندیسے گلاب ہوں گے
اسی ستم گر کے نام یارو
مرے سبھی انتساب ہوں گے
جنہیں سکوں سمجھا ہم نے شاکرؔ
خبر نہ تھی اضطراب ہوں گے