تیرے بغیر خود سے جدا لگ رہا ہوں آج

تیرے بغیر خود سے جدا لگ رہا ہوں آج
بے لوث چاہتوں کی سزا لگ رہا ہوں آج


تم سے بچھڑ کے خود کو عجب فیض ہے ملا
میں اپنی خواہشوں کا خدا لگ رہا ہوں آج


میں تو تمہارے ہجر میں یوں چور ہو گیا
اجڑے ہوئے چمن کی ہوا لگ رہا ہوں آج


رسموں کی بھینٹ ایسے چڑھا ہوں میں اے قفس
ان بکتی دلہنوں کی ردا لگ رہا ہوں آج


شاکرؔ میں کیسے عہد نبھاؤں گا اس برس
پوری نہ ہو سکے جو دعا لگ رہا ہوں آج