M. Usman Shakir

محمد عثمان شاکر

محمد عثمان شاکر کے تمام مواد

14 غزل (Ghazal)

    اداس رت میں ترے بعد کی کہانی ہے

    اداس رت میں ترے بعد کی کہانی ہے سکوت دل ہے ترے غم کی جاں فشانی ہے نہ تیرے ساتھ گزرتے تو ہم گزر جاتے یہی ہے بات اگرچہ ذرا پرانی ہے محبتوں کے ڈسے ہیں تو نفرتیں لا دو کہ یہ بھی اپنے بزرگوں کی اک نشانی ہے وفا کی بات نہ کر خواہشیں بچا اپنی مجھے عزیز تعلق تجھے جوانی ہے گئے دنوں کے ...

    مزید پڑھیے

    تم بھی جشن بہار کر دیکھو

    تم بھی جشن بہار کر دیکھو خود کو پھر سوگوار کر دیکھو جانے والے کبھی نہیں آتے چاہو تو انتظار کر دیکھو ہجر کا وقت کاٹنا مشکل تم ستارے شمار کر دیکھو تیری آنکھوں میں میری صورت ہے نقلی چہرہ اتار کر دیکھو ہم نے ایک عمر ہار مانی ہے اب کے تم بھی تو ہار کر دیکھو درد شاکرؔ بس ایسے سمجھو ...

    مزید پڑھیے

    یہ بازگشت بو اے ہوا اس گلی کی ہے

    یہ بازگشت بو اے ہوا اس گلی کی ہے نیندیں اجاڑنے کی صدا اس گلی کی ہے گو کہ ہمارا دل بھی تھا لٹنے میں پیش پیش لیکن تباہیوں میں خطا اس گلی کی ہے اس کو غم حیات سے مل جائے کنارہ جس کے مقدروں میں دعا اس گلی کی ہے شام و سحر وہ جلوہ نما ہوتی ہے ایسے جیسے کہ وہ ہی لڑکی خدا اس گلی کی ہے

    مزید پڑھیے

    ہے ہجر پھیلا ہوا اور روشنی کم ہے

    ہے ہجر پھیلا ہوا اور روشنی کم ہے محبتوں کے لیے ایک زندگی کم ہے ترا وصال علامت ہے میرے جینے کی اور اب کے جینے کی امید اور بھی کم ہے نہ وہ فراق نہ نفرت نہ انتہائے غم مری حیات میں ہر ایک تیرگی کم ہے تم اپنی نیم سی آنکھوں سے ہی پلا ڈالو مرے لبوں پہ پیالوں کی تشنگی کم ہے مرے مزاج سے ...

    مزید پڑھیے

    ہمیں خبر ہے خراب ہوں گے

    ہمیں خبر ہے خراب ہوں گے ادھورے سپنے عذاب ہوں گے جو کی محبت تو سوچنا کیا سوال ہوں گے جواب ہوں گے ہے یاد مجھ کو کہ کہہ رہے تھے ہمیشہ دل کی کتاب ہوں گے رہیں گے بن کے کسک سی دل میں جو جاگی آنکھوں کے خواب ہوں گے محبتیں مٹ سکی ہیں کس سے یہی سندیسے گلاب ہوں گے اسی ستم گر کے نام ...

    مزید پڑھیے

تمام