خواجہ شوق کی غزل

    اک ٹیس بہ مشکل تھم تھم کر اشکوں کی زباں تک پہنچی ہے

    اک ٹیس بہ مشکل تھم تھم کر اشکوں کی زباں تک پہنچی ہے معلوم نہیں بربادئ دل پہنچی تو کہاں تک پہنچی ہے بے تابیٔ غم بڑھتے بڑھتے کیا زخم نہاں تک پہنچی ہے ہر درد نظر میں ابھرا ہے ہر سانس فغاں تک پہنچی ہے کتنے تو فریب منزل میں احساس طلب تک کھو بیٹھے حالانکہ ابھی دنیائے نظر منزل کے نشاں ...

    مزید پڑھیے

    کمال حسن کا اقرار کر جانا ہی پڑتا ہے

    کمال حسن کا اقرار کر جانا ہی پڑتا ہے ادائیں اتنی کافر ہوں تو مر جانا ہی پڑتا ہے کوئی منزل ہو مجبور سفر ہیں حوصلے والے گزر مشکل سہی لیکن گزر جانا ہی پڑتا ہے طلب میں تیز گامی ہر جگہ موزوں نہیں ہوتی جہاں بھی وقت ٹھہراتے ٹھہر جانا ہی پڑتا ہے کہاں تک ناز برداری تری اے گردش ...

    مزید پڑھیے

    رہ الفت میں جب ترک توسط کا مقام آیا

    رہ الفت میں جب ترک توسط کا مقام آیا نہ دنیا میرے کام آئی نہ میں دنیا کے کام آیا اسیری کی فضا کس درجہ حسرت خیز ہوتی ہے نشیمن کا تصور بھی جو آیا نا تمام آیا ہماری ذات سے ہے کتنی دلچسپی زمانے کو ہمیشہ زیر غور آیا تو بس اپنا ہی نام آیا وفا کی راہ میں آسانیوں کا ذکر ہی کیا ہے یہاں جو ...

    مزید پڑھیے

    آگہی موت سے کم بھی نہیں رسوا بھی نہیں

    آگہی موت سے کم بھی نہیں رسوا بھی نہیں دیکھتا ہوں وہ تماشا جو تماشا بھی نہیں جلوہ مشتاق بھی ہوں جلوہ تقاضا بھی نہیں حسن مجروح نظر ہو یہ گوارا بھی نہیں زندگی ہم کو بہت دیر میں راس آئی ہے درد کم بھی نہیں امکان مداوا بھی نہیں راہ پاتا ہے زمانہ مری گمراہی سے منزلیں کیا مرے آگے کوئی ...

    مزید پڑھیے

    نغمے خوابیدہ ہیں نالوں کا اثر تک چپ ہے

    نغمے خوابیدہ ہیں نالوں کا اثر تک چپ ہے آپ کیا چپ ہیں فضا حد نظر تک چپ ہے شام تک میکدہ گلزار سحر تک چپ ہے زندگی وقت کی تجدید سفر تک چپ ہے ساتھ تھے آپ تو منزل بھی صدا دیتی تھی اب یہ عالم ہے کہ ہر راہ گزر تک چپ ہے کس کو آواز دیں اس بولتے سناٹے میں جس طرف دیکھیے دیوار سے در تک چپ ...

    مزید پڑھیے

    دل تو پھولوں سے بہ تحریک غم دل باندھا

    دل تو پھولوں سے بہ تحریک غم دل باندھا ہم نے گلشن سے مگر خود کو بہ مشکل باندھا وقت و حالات نے ماحول عجب مل باندھا قتل گاہوں نے سماں صورت محفل باندھا باندھتے کیا تھے تعلق کے یہ رشتے ہم کو جبر فطرت ہے کہ بے طوق و سلاسل باندھا کون پہنچا ہے سر منزل ہستی اب تک جو جہاں رہ گیا تھک کر اسے ...

    مزید پڑھیے

    زلف دوراں ہے کہاں سایہ فگن میرے بعد

    زلف دوراں ہے کہاں سایہ فگن میرے بعد منتظر دیر سے ہیں دار و رسن میرے بعد کس کو دل بستگئ غم کا سلیقہ سونپوں سوچتا ہوں کہ نہ مر جائے یہ فن میرے بعد میں زمانے سے اٹھا رسم وفا کی صورت پھرنا ابھری کسی ماتھے پہ شکن میرے بعد میرے دم تک تو زر گل کی بھی قیمت نہ اٹھی خاک کے مول گئی ارض چمن ...

    مزید پڑھیے

    غم کون و مکاں سے فکر بیش و کم سے گزرے ہیں

    غم کون و مکاں سے فکر بیش و کم سے گزرے ہیں فقط اک جام میں ہم کتنے ہی عالم سے گزرے ہیں گزر گاہ تمنا میں گلستاں ہو کہ زنداں ہو جدھر گزرے ہیں دیوانے اسی دم خم سے گزرے ہیں زمانہ آشنا ہے صرف اشکوں کے تلاطم سے وہ طوفاں اور ہیں جو دیدۂ بے نم سے گزرے ہیں گزرنا خاک دل سے شاید ان کو بار ...

    مزید پڑھیے

    چھپائے کیا کوئی درد جگر کو

    چھپائے کیا کوئی درد جگر کو محبت رنگ دیتی ہے نظر کو تمہارا حسن تم پر کب کھلا تھا دعائیں دو میرے ذوق نظر کو پیام اہل دل کیا جانے کوئی نظر والے سمجھتے ہیں نظر کو بلند اتنا تو ہو ذوق تماشا نگاہ حسن خود ڈھونڈے نظر کو ذرا رک رک کے ہر پردہ اٹھانا کہیں جلوے نہ گم کر دیں نظر کو سلامت ...

    مزید پڑھیے

    روح کا کرب ہے جینے کی سزا ہونے کو

    روح کا کرب ہے جینے کی سزا ہونے کو ہم بھی ہیں تیری طرح خود سے جدا ہونے کو لاکھ ہو نشتر غم سینہ کشا ہونے کو میرا دامن نہیں پھولوں کی قبا ہونے کو ذوق پرواز سنورتا ہے گرفتاری سے ہم تہ دام نہیں آئے رہا ہونے کو آپ قائل ہوں جفا کے تو یہی کیا کم ہے کون کہتا ہے پشیمان جفا ہونے کو تلخیٔ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3