اک ٹیس بہ مشکل تھم تھم کر اشکوں کی زباں تک پہنچی ہے
اک ٹیس بہ مشکل تھم تھم کر اشکوں کی زباں تک پہنچی ہے معلوم نہیں بربادئ دل پہنچی تو کہاں تک پہنچی ہے بے تابیٔ غم بڑھتے بڑھتے کیا زخم نہاں تک پہنچی ہے ہر درد نظر میں ابھرا ہے ہر سانس فغاں تک پہنچی ہے کتنے تو فریب منزل میں احساس طلب تک کھو بیٹھے حالانکہ ابھی دنیائے نظر منزل کے نشاں ...