نغمے خوابیدہ ہیں نالوں کا اثر تک چپ ہے

نغمے خوابیدہ ہیں نالوں کا اثر تک چپ ہے
آپ کیا چپ ہیں فضا حد نظر تک چپ ہے


شام تک میکدہ گلزار سحر تک چپ ہے
زندگی وقت کی تجدید سفر تک چپ ہے


ساتھ تھے آپ تو منزل بھی صدا دیتی تھی
اب یہ عالم ہے کہ ہر راہ گزر تک چپ ہے


کس کو آواز دیں اس بولتے سناٹے میں
جس طرف دیکھیے دیوار سے در تک چپ ہے


آنکھ درکار ہے جذبوں کو سمجھنے کے لئے
چہرہ کیا کہہ سکے جب دیدۂ تر تک چپ ہے


بے شعوروں نے اٹھا رکھی ہے دنیا سر پر
ہوش مندوں کی زباں کیا ہے نظر تک چپ ہے


کس سے پوچھوں کہ نشیمن مرا کس نے پھونکا
بوئے گل باد صبا شاخ شجر تک چپ ہے


دل ہے خاموش تو خاموش ہے دنیا ساری
ایک عالم ہے ادھر سے جو ادھر تک چپ ہے


شوقؔ زندان جہاں منزل فریاد نہیں
اس خرابے میں تو سانسوں کا سفر تک چپ ہے