خواجہ شوق کی غزل

    ایک بے حاصل طلب بے نام اک منزل بنا

    ایک بے حاصل طلب بے نام اک منزل بنا ٹوٹنے کے بعد ہی دل در حقیقت دل بنا منزلیں ہی کیا نیا ہر جادۂ منزل بنا لیکن اپنے آپ کو پہلے کسی قابل بنا ہم فریب رنگ و بو کھا کر بھی آگے بڑھ گئے کم نگاہوں کے لیے ہر مرحلہ مشکل بنا کس قدر عہد آفریں عالم ہے تیری ذات کا جو تری محفل میں آیا وہ خود اک ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 3