کمال حسن کا اقرار کر جانا ہی پڑتا ہے
کمال حسن کا اقرار کر جانا ہی پڑتا ہے
ادائیں اتنی کافر ہوں تو مر جانا ہی پڑتا ہے
کوئی منزل ہو مجبور سفر ہیں حوصلے والے
گزر مشکل سہی لیکن گزر جانا ہی پڑتا ہے
طلب میں تیز گامی ہر جگہ موزوں نہیں ہوتی
جہاں بھی وقت ٹھہراتے ٹھہر جانا ہی پڑتا ہے
کہاں تک ناز برداری تری اے گردش دوراں
چڑھے دریا کو بھی اک دن اتر جانا ہی پڑتا ہے
گلستاں ہو کہ صحرا کوئے قاتل ہو کہ مے خانہ
جدھر تقدیر لے جائے ادھر جانا ہی پڑتا ہے
ترے جلوؤں کی تابانی سنبھلنے ہی نہیں دیتی
نظر کو ہوش کی صورت بکھر جانا ہی پڑتا ہے
رواں ہے کاروان زندگی لمحوں کی صورت میں
بکھرتے ٹوٹتے شام و سحر جانا ہی پڑتا ہے
وہ جاتے ہیں تو ساتھ ان کے نظر تنہا نہیں جاتی
ہمیں بھی دور ہم راہ نظر جانا ہی پڑتا ہے
کبھی حالات اس منزل پہ بھی لاتے ہیں انساں کو
کہ سب کچھ جان کر سب سے گزر جانا ہی پڑتا ہے
زمین دل کی شادابی ہے امواج حوادث سے
بہار آئے تو گلشن کو سنور جانا ہی پڑتا ہے
یہی تو شوقؔ مجبوری ہے اپنی بزم ساقی میں
ہزار انکار کرتے ہیں مگر جانا ہی پڑتا ہے