خواجہ شوق کی غزل

    دیر و حرم سے کام نہ کوئے بتاں سے ہے

    دیر و حرم سے کام نہ کوئے بتاں سے ہے وابستہ زندگی ترے درد نہاں سے ہے آغاز درد عشق نہ پوچھو کہاں سے ہے یہ بات ماورا غم شرح و بیاں سے ہے کتنے مزے سے اہل فنا کی گزر گئی جو قید ہے تعین نام و نشاں سے ہے کب سے ہوں غم نصیب محبت نہ پوچھئے یہ دیکھیے کہ سلسلۂ غم کہاں سے ہے واقف مزاج گل سے ...

    مزید پڑھیے

    ملنے کی طرح ہم سے وہ اب تک کہاں ملے

    ملنے کی طرح ہم سے وہ اب تک کہاں ملے کم کم ملے کشیدہ ملے بد گماں ملے اے کاش زندگی کو وہ جذب نہاں ملے دیکھے مجھے کوئی تو تمہارا نشاں ملے کس حوصلے سے ہم نے بسر کی ہے زندگی طوفاں سے بھی ملے تو بعزم جواں ملے نبض چمن پہ بعد میں رکھیں گے انگلیاں پہلے ترا مزاج تو اے باغباں ملے راحت کی ...

    مزید پڑھیے

    کمال ہوش ہے جن کو وہ دیوانے سے لگتے ہیں

    کمال ہوش ہے جن کو وہ دیوانے سے لگتے ہیں حقائق زندگی کے آج افسانے سے لگتے ہیں سب اپنے ہیں بظاہر جانے پہچانے سے لگتے ہیں کوئی وقت آ پڑے تو صاف بیگانے سے لگتے ہیں شرافت کے لبادے جب اتر جاتے ہیں جسموں سے تو یہ گنجان شہر آباد ویرانے سے لگتے ہیں بہاروں میں بھی گلشن کی اداسی کیوں نہیں ...

    مزید پڑھیے

    چاک دل ہو کوئی یا خاک بسر کیا ہوگا

    چاک دل ہو کوئی یا خاک بسر کیا ہوگا جس کو احساس نہیں اس کو اثر کیا ہوگا حاصل درد بجز دیدۂ تر کیا ہوگا نہیں معلوم یہاں اپنا گزر کیا ہوگا پہلے آغاز شب غم تو سمجھ میں آئے بعد کی بات ہے ہنگام سحر کیا ہوگا دیکھ کر رنگ جہان گزراں حیراں ہوں جب یہ عالم ہے ادھر کا تو ادھر کیا ہوگا زندگی ...

    مزید پڑھیے

    چاک دل میں ہے سلامت ہے گریباں میرا

    چاک دل میں ہے سلامت ہے گریباں میرا کون سمجھے گا الٰہی غم پنہاں میرا پہلے یہ تھا کہ غم ان کا دل ویراں میرا اب میں اپنا ہوں نہ دل ہے کسی عنواں میرا تنگ دامن ہوں مگر دامن دل تنگ نہیں ہے مری حوصلہ مندی سر و ساماں میرا آج ذرات چمن بھی نہیں واقف مجھ سے تھا کبھی نام گلستاں بہ گلستاں ...

    مزید پڑھیے

    روح کے زخم سے چہرے پہ توانائی ہے

    روح کے زخم سے چہرے پہ توانائی ہے بے حسی شدت احساس کی گہرائی ہے ہر نفس تشنگیٔ درد پذیرائی ہے دل جسے کہتے ہیں اک محشر تنہائی ہے خود فراموش ہوں میں عشق فراموش نہیں بھولتا تجھ کو تو کہتا تری یاد آئی ہے وقت کا جبر ہے مجبورئ دل سے بھی سوا ورنہ اصل کسے تاب شکیبائی ہے تھی نظر جلوہ ہی ...

    مزید پڑھیے

    وقت کا سیل رواں شام و سحر ہیں ہم لوگ

    وقت کا سیل رواں شام و سحر ہیں ہم لوگ جس کی منزل نہیں کوئی وہ سفر ہیں ہم لوگ ہم سے مل کر بھی زمانہ نہیں واقف ہم سے اہل دانش کے حجابات نظر ہیں ہم لوگ زندگی کتنے اندھیروں سے عبارت ہے مگر ظلمتوں کے لیے پیغام سحر ہیں ہم لوگ اصطلاح رہ و منزل میں نہ ڈھونڈو ہم کو رہرو منزل بے راہ گزر ہیں ...

    مزید پڑھیے

    مسافت زندگی اور حادثوں میں اتنی مبہم ہے

    مسافت زندگی اور حادثوں میں اتنی مبہم ہے خوشی کہتے ہیں جس کو اک ذرا سا وقفۂ غم ہے بہار حسن پنہاں ہے جنوں تحریک عالم ہے جہاں ہم ہیں وہاں گنجائش فکر و نظر کم ہے نگاہ وقت میں دونوں بھی شانیں پائی جاتی ہیں کہیں زخم جگر ہے اور کہیں زخموں کا مرہم ہے مذاق عام سے کیا مطمئن ہوں گے نظر ...

    مزید پڑھیے

    لالہ و گل کا لہو لاکھ بہایا جائے

    لالہ و گل کا لہو لاکھ بہایا جائے یہ چمن چھوڑ کے ہم سے تو نہ جایا جائے پھر رہے ہیں سبھی چہروں پہ نقابیں ڈالے کس کو حالات کا آئینہ دکھایا جائے رنگ پر جشن بہاراں جبھی آ سکتا ہے پھول کانٹوں میں کوئی فرق نہ پایا جائے اپنی تہذیب ہی اخلاص و رواداری ہے اس کو ہٹنے سے بہ ہر حال بچایا ...

    مزید پڑھیے

    دل ہے کیوں گریۂ بے اشک سے پر نور بہت

    دل ہے کیوں گریۂ بے اشک سے پر نور بہت تم بہت پاس ہو یا خود سے ہیں ہم دور بہت جلوۂ حسن سے دل کیا رہے معمور بہت موج ساحل کے کبھی پاس کبھی دور بہت نام اسی فرق کا ہے کشمکش غم شاید تم کرم کرتے ہو کم کم ہمیں منظور بہت استطاعت ہے جنہیں ان کو کچھ احساس نہیں جن کا احساس ہے زندہ وہ ہیں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3