خواجہ شوق کے تمام مواد

21 غزل (Ghazal)

    دیر و حرم سے کام نہ کوئے بتاں سے ہے

    دیر و حرم سے کام نہ کوئے بتاں سے ہے وابستہ زندگی ترے درد نہاں سے ہے آغاز درد عشق نہ پوچھو کہاں سے ہے یہ بات ماورا غم شرح و بیاں سے ہے کتنے مزے سے اہل فنا کی گزر گئی جو قید ہے تعین نام و نشاں سے ہے کب سے ہوں غم نصیب محبت نہ پوچھئے یہ دیکھیے کہ سلسلۂ غم کہاں سے ہے واقف مزاج گل سے ...

    مزید پڑھیے

    ملنے کی طرح ہم سے وہ اب تک کہاں ملے

    ملنے کی طرح ہم سے وہ اب تک کہاں ملے کم کم ملے کشیدہ ملے بد گماں ملے اے کاش زندگی کو وہ جذب نہاں ملے دیکھے مجھے کوئی تو تمہارا نشاں ملے کس حوصلے سے ہم نے بسر کی ہے زندگی طوفاں سے بھی ملے تو بعزم جواں ملے نبض چمن پہ بعد میں رکھیں گے انگلیاں پہلے ترا مزاج تو اے باغباں ملے راحت کی ...

    مزید پڑھیے

    کمال ہوش ہے جن کو وہ دیوانے سے لگتے ہیں

    کمال ہوش ہے جن کو وہ دیوانے سے لگتے ہیں حقائق زندگی کے آج افسانے سے لگتے ہیں سب اپنے ہیں بظاہر جانے پہچانے سے لگتے ہیں کوئی وقت آ پڑے تو صاف بیگانے سے لگتے ہیں شرافت کے لبادے جب اتر جاتے ہیں جسموں سے تو یہ گنجان شہر آباد ویرانے سے لگتے ہیں بہاروں میں بھی گلشن کی اداسی کیوں نہیں ...

    مزید پڑھیے

    چاک دل ہو کوئی یا خاک بسر کیا ہوگا

    چاک دل ہو کوئی یا خاک بسر کیا ہوگا جس کو احساس نہیں اس کو اثر کیا ہوگا حاصل درد بجز دیدۂ تر کیا ہوگا نہیں معلوم یہاں اپنا گزر کیا ہوگا پہلے آغاز شب غم تو سمجھ میں آئے بعد کی بات ہے ہنگام سحر کیا ہوگا دیکھ کر رنگ جہان گزراں حیراں ہوں جب یہ عالم ہے ادھر کا تو ادھر کیا ہوگا زندگی ...

    مزید پڑھیے

    چاک دل میں ہے سلامت ہے گریباں میرا

    چاک دل میں ہے سلامت ہے گریباں میرا کون سمجھے گا الٰہی غم پنہاں میرا پہلے یہ تھا کہ غم ان کا دل ویراں میرا اب میں اپنا ہوں نہ دل ہے کسی عنواں میرا تنگ دامن ہوں مگر دامن دل تنگ نہیں ہے مری حوصلہ مندی سر و ساماں میرا آج ذرات چمن بھی نہیں واقف مجھ سے تھا کبھی نام گلستاں بہ گلستاں ...

    مزید پڑھیے

تمام