رہ الفت میں جب ترک توسط کا مقام آیا
رہ الفت میں جب ترک توسط کا مقام آیا
نہ دنیا میرے کام آئی نہ میں دنیا کے کام آیا
اسیری کی فضا کس درجہ حسرت خیز ہوتی ہے
نشیمن کا تصور بھی جو آیا نا تمام آیا
ہماری ذات سے ہے کتنی دلچسپی زمانے کو
ہمیشہ زیر غور آیا تو بس اپنا ہی نام آیا
وفا کی راہ میں آسانیوں کا ذکر ہی کیا ہے
یہاں جو بھی مقام آیا بڑا مشکل مقام آیا
نشہ کیسا نہیں احساس تک کچھ تلخیٔ مے کا
کہیں کس سے کہ کیا گزری جہاں گردش میں جام آیا
وصال دوست کی منزل نہیں معلوم کب آئے
مقام ہوش سے گزرے تو حیرت کا مقام آیا
زمانے پر عیاں ہونے کو تھا راز الم میرا
ترا انجان ہو جانا بھی کس موقع پہ کام آیا
نہ جانے وقت کی تبدیلیاں کیا کیا دکھاتی ہیں
چمن والوں کے ہاتھوں اب چمن کا انتظام آیا
وفور شوق میں انسان خود کو بھول جاتا ہے
تم آئے سامنے تو جب سمجھ میں یہ مقام آیا
اصول میکدہ ایسے بنا رکھے ہیں ساقی نے
جو نکلا بے خبر نکلا جو آیا تشنہ کام آیا
شکایت کی بھی گنجائش کہاں ہے شوقؔ پھولوں کو
خزان زندگی بن کر بہاروں کا پیام آیا