چھپائے کیا کوئی درد جگر کو

چھپائے کیا کوئی درد جگر کو
محبت رنگ دیتی ہے نظر کو


تمہارا حسن تم پر کب کھلا تھا
دعائیں دو میرے ذوق نظر کو


پیام اہل دل کیا جانے کوئی
نظر والے سمجھتے ہیں نظر کو


بلند اتنا تو ہو ذوق تماشا
نگاہ حسن خود ڈھونڈے نظر کو


ذرا رک رک کے ہر پردہ اٹھانا
کہیں جلوے نہ گم کر دیں نظر کو


سلامت انقلابات زمانہ
نئی راہیں ملیں فکر و نظر کو


جہاں ہوتی ہے دل کو راہ دل سے
نظر پہچان لیتی ہے نظر کو


نظر دے تو شعور دید بھی دے
نہیں تو کیا کروں لے کر نظر کو


تجلی خود نظر بنتی ہے لیکن
مٹا کر اعتبارات نظر کو


انہیں دیکھے مجسم دید ہو کر
شعور اتنا کہاں ہے ہر نظر کو


خیال ان کا جہاں بھی شوقؔ آیا
نظر طے کر گئی حد نظر کو