اک ٹیس بہ مشکل تھم تھم کر اشکوں کی زباں تک پہنچی ہے

اک ٹیس بہ مشکل تھم تھم کر اشکوں کی زباں تک پہنچی ہے
معلوم نہیں بربادئ دل پہنچی تو کہاں تک پہنچی ہے


بے تابیٔ غم بڑھتے بڑھتے کیا زخم نہاں تک پہنچی ہے
ہر درد نظر میں ابھرا ہے ہر سانس فغاں تک پہنچی ہے


کتنے تو فریب منزل میں احساس طلب تک کھو بیٹھے
حالانکہ ابھی دنیائے نظر منزل کے نشاں تک پہنچی ہے


کیا چارۂ درد محرومی آنے کو ہزار آ جائے ہنسی
یہ چوٹ ذرا سی چوٹ سہی پھر بھی دل و جاں تک پہنچی ہے


حالات سے کچھ ہٹ کر بھی کبھی حالات سمجھنے پڑتے ہیں
لیکن یہ متاع دور رسی کچھ دیدہ وراں تک پہنچی ہے


کتنے ہی غموں کو دنیا نے دے دی ہے زباں افسانوں کی
بربادیٔ اہل دل لیکن کب شرح و بیاں تک پہنچی ہے


اب تک ہے فغان نیم شبی محروم اثر تو رہنے دو
کیا کم ہے یہی آواز شکست دل تو وہاں تک پہنچی ہے


ممکن ہے کہ شوقؔ اب وہ خود بھی تسکین تمنا دے نہ سکیں
پردے میں ہنسی کے پوشیدہ فریاد یہاں تک پہنچی ہے