دل تو پھولوں سے بہ تحریک غم دل باندھا

دل تو پھولوں سے بہ تحریک غم دل باندھا
ہم نے گلشن سے مگر خود کو بہ مشکل باندھا


وقت و حالات نے ماحول عجب مل باندھا
قتل گاہوں نے سماں صورت محفل باندھا


باندھتے کیا تھے تعلق کے یہ رشتے ہم کو
جبر فطرت ہے کہ بے طوق و سلاسل باندھا


کون پہنچا ہے سر منزل ہستی اب تک
جو جہاں رہ گیا تھک کر اسے منزل باندھا


تم سے روکا نہ گیا ہاتھ کسی قاتل کا
جب بھی باندھا ہے فقط بازوئے بسمل باندھا


آزمانا تھا میرے ذوق نظر کو شاید
ہر جگہ اس نے نیا پردۂ حائل باندھا


ہم نے جب سے تری راہوں میں قدم رکھا ہے
کسی منزل کا تصور بھی بہ مشکل باندھا


غیر اگر سازشیں کرتے تو کوئی بات بھی تھی
مورچہ اپنوں نے اپنوں کے مقابل باندھا


قدم قافلۂ عمر ہیں سانسیں کیا ہیں
بے ارادہ بھی ملا ہر کوئی محمل باندھا


خون مقتول میں کیا شان رواداری تھی
چشم انصاف نے قاتل کو نہ قاتل باندھا


زندگی شوقؔ ہماری بھی عجب گزری ہے
دل اٹھایا نہ زمانے سے کبھی دل باندھا