Khaleel Ahmad

خلیل احمد

خلیل احمد کی غزل

    مشکل میں مجھے اس کا سہارا بھی بہت تھا

    مشکل میں مجھے اس کا سہارا بھی بہت تھا وہ شخص مجھے جان سے پیارا بھی بہت تھا یہ کم ہے کہ کچھ دن وہ مرے ساتھ رہا ہے تنہا تھا تو یادوں کا سہارا بھی بہت تھا تنہائی اداسی یہ سیہ رات یہ جل تھل ایسے میں تو اک ٹوٹا ستارہ بھی بہت تھا اک میں کہ چلا آیا کوئی قدر نہیں کی اس نے تو مرا نام پکارا ...

    مزید پڑھیے

    صحرا تو پار کر لیا دریا بھی پار کر

    صحرا تو پار کر لیا دریا بھی پار کر کس نے کہا تھا تجھ سے کہ عشق اختیار کر میں نے کہا تھا شہر میں کئی با وفا بھی ہیں یہ تو نہیں کہا تھا کہ جا اعتبار کر بجھتا ہوا چراغ یہ فریاد کر گیا نفرت ہوا سے اور چراغوں سے پیار کر برسوں سے اک مقام پہ ٹھہرا ہوں میں خلیلؔ اس نے کہا تھا آؤں گا تو ...

    مزید پڑھیے

    مجھ کو تنہائیوں سے پیار بھی ہے

    مجھ کو تنہائیوں سے پیار بھی ہے تیرے آنے کا انتظار بھی ہے تو مجھے بے وفا سا لگتا ہے تیرے وعدے پہ اعتبار بھی ہے مدتوں بعد سر ہے سجدے میں بے قراری بھی ہے قرار بھی ہے جس نے میرا سکون چھینا ہے میرا دشمن بھی میرا یار بھی ہے کس لئے یوں اداس بیٹھے ہو اپنا گھر بھی ہے کاروبار بھی ہے تو ...

    مزید پڑھیے

    نئے خوابوں سے ڈر لگنے لگا ہے

    نئے خوابوں سے ڈر لگنے لگا ہے یہ رستہ پر خطر لگنے لگا ہے یہ کیسا دور آیا بے حسی کا مجھے زندان گھر لگنے لگا ہے بچھڑ جائے گا تو مجھ سے کسی دن نہ لگتا تھا مگر لگنے لگا ہے ذرا دیکھو مری سادہ طبیعت کہ قاتل چارہ گر لگنے لگا ہے سفر میں ہم سفر تم کیا ہوئے ہو سفر اب مختصر لگنے لگا ...

    مزید پڑھیے

    اس نئے سال کی آمد پہ میں کیا دوں تجھ کو

    اس نئے سال کی آمد پہ میں کیا دوں تجھ کو میرے دامن میں دعائیں ہیں دعا دوں تجھ کو سال رفتہ میں تجھے چاہا بہت یاد کیا دل یہ کہتا ہے کہ اس سال بھلا دوں تجھ کو تو نے چاہا ہے اسے جس کو تری قدر نہیں دل نادان بتا کیسی سزا دوں تجھ کو تو کہ ہر وقت رہا ہم سے خفا پھر بھی خلیلؔ دل پہ لکھا ہے ترا ...

    مزید پڑھیے

    کبھی غمگین ہوتا ہوں کبھی میں مسکراتا ہوں

    کبھی غمگین ہوتا ہوں کبھی میں مسکراتا ہوں تمہیں جب یاد کرتا ہوں تو خود کو بھول جاتا ہوں تمہیں تو دشمنوں کی دشمنی نے مار ڈالا ہے مجھے دیکھو میں اپنے دوستوں سے زخم کھاتا ہوں کبھی فرصت ملے تو دیکھ لینا اک نظر آ کر تمہاری یاد میں بجھتی ہوئی شمعیں جلاتا ہوں میں چلتا جا رہا ہوں آبلہ ...

    مزید پڑھیے

    مقدر کو بدلنا چاہتا ہوں

    مقدر کو بدلنا چاہتا ہوں تمہارے ساتھ چلنا چاہتا ہوں نہ جانے کیا کشش ہے تجھ میں ایسی تری خاطر میں جلنا چاہتا ہوں کوئی تو ہو جو میرا ہاتھ تھامے میں یہ دنیا بدلنا چاہتا ہوں مجھے ٹھوکر نہ مارو آسرا دو مرے یارو سنبھلنا چاہتا ہوں جنہیں چھونے سے زخمی ہو ہتھیلی میں ایسے گل کچلنا ...

    مزید پڑھیے

    کبھی تو آؤ مری چشم تر میں شام ڈھلے

    کبھی تو آؤ مری چشم تر میں شام ڈھلے کہ کوئی آتا نہیں اس نگر میں شام ڈھلے میں اپنے چہرے پہ خوشیاں سجائے پھرتا ہوں چراغ جلتے ہیں اشکوں کے گھر میں شام ڈھلے میں بن کے چاند اسے راستہ دکھاتا رہوں کبھی تو مجھ کو ملے وہ سفر میں شام ڈھلے نہ آئی راس ہمیں آپ کی مسیحائی کہ درد اٹھتا ہے اب ...

    مزید پڑھیے

    کاش میں تجھ کو کوئی شام سہانی دیتا

    کاش میں تجھ کو کوئی شام سہانی دیتا اپنی ناکام محبت کی نشانی دیتا میری آنکھوں سے لہو نے بھی ٹپک پڑنا تھا اپنے اشکوں کو اگر اور روانی دیتا تیرے اک بال کا صدقہ بھی نہیں تھا جاناں تجھ پہ گر وار میں اپنی یہ جوانی دیتا دامن دل میں دعاؤں کے سوا کچھ بھی نہ تھا پھر بھلا کیسے کوئی چیز ...

    مزید پڑھیے

    جانے دل کا آنکھ سے کیسا رشتہ ہے

    جانے دل کا آنکھ سے کیسا رشتہ ہے چوٹ لگے تو آنکھ سے آنسو بہتا ہے پل پل نئے ٹھکانے ڈھونڈھتا رہتا ہے میرا دل بھی نئے پرندے جیسا ہے میرے دل کے اجڑے اجڑے صحرا میں ایک دیا سا جلتا بجھتا رہتا ہے دیکھنا کالے بادلوں نے نہ ڈھانکا ہو اپنی مرضی سے کب سورج چھپتا ہے کون لکھے گا ڈھلتے سورج ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2