کاش میں تجھ کو کوئی شام سہانی دیتا

کاش میں تجھ کو کوئی شام سہانی دیتا
اپنی ناکام محبت کی نشانی دیتا


میری آنکھوں سے لہو نے بھی ٹپک پڑنا تھا
اپنے اشکوں کو اگر اور روانی دیتا


تیرے اک بال کا صدقہ بھی نہیں تھا جاناں
تجھ پہ گر وار میں اپنی یہ جوانی دیتا


دامن دل میں دعاؤں کے سوا کچھ بھی نہ تھا
پھر بھلا کیسے کوئی چیز نشانی دیتا


سوکھی ٹہنی بھی ہری ہونی تھی اک روز خلیلؔ
تو اگر روز اسے اشکوں کا پانی دیتا