Khaleel Ahmad

خلیل احمد

خلیل احمد کی غزل

    ہزاروں لوگ ہیں اپنی طرح کے

    ہزاروں لوگ ہیں اپنی طرح کے ستم جو جھیلتے ہیں مسکرا کے کہاں تاریکیوں میں کھو گئے ہو ہمارے ہاتھ پر شمع جلا کے ذرا بیٹھو ہمارا حال دیکھو کدھر جاتے ہو تم یہ گل کھلا کے ترے بارے میں یہ سوچا نہیں تھا کہ تو بھی چھوڑ دے گا آزما کے چمن میں تم خلیلؔ آئے نہیں ہو مجھے سننے پڑے شکوے صبا ...

    مزید پڑھیے

    فصیل شہر پہ لکھی ہے داستاں میری

    فصیل شہر پہ لکھی ہے داستاں میری میں کیسے بات کروں قید ہے زباں میری محبتوں کے بھی یہ سلسلے عجیب سے ہیں جدا ہے مجھ سے مگر پھر بھی ہے وہ جاں میری میں اپنے شہر میں رہ کر بھی اجنبی سا رہا کہ کوئی سنتا نہیں بات بھی یہاں میری جو جان لیتا تھا اندر کا حال آنکھوں سے اسے سنائی نہیں دیتیں ...

    مزید پڑھیے

    دکھوں سے اور غموں سے دوستی ہے

    دکھوں سے اور غموں سے دوستی ہے حقیقت میں یہی تو زندگی ہے خوشی پل بھر مگر غم زندگی بھر خوشی سے غم زیادہ قیمتی ہے اگر روشن ہو دل سینے کے اندر اندھیری رات بھی پھر چاندنی ہے گلے میں ڈالتا ہے ہجر باہیں اداسی میرے پاؤں چومتی ہے بڑی مدت ہوئی ہم نے خلیلؔ اب زمانے میں خوشی دیکھی نہیں ...

    مزید پڑھیے

    اندھیری شب ہے مری جاں ذرا سا سوچ تو لے

    اندھیری شب ہے مری جاں ذرا سا سوچ تو لے بجھا چراغ کبھی کام آ ہی جاتا ہے کسی کا نام پکاریں کسی کو یاد کریں ہمارے لب پہ ترا نام آ ہی جاتا ہے دواۓ درد جگر جب بھی مانگتا ہوں میں تو میرے سامنے اک جام آ ہی جاتا ہے خطائیں شہر کا حاکم کرے یا اور کوئی مگر غریب پہ الزام آ ہی جاتا ہے چلے تھے ...

    مزید پڑھیے

    میری دھڑکن ہو زندگی ہو تم

    میری دھڑکن ہو زندگی ہو تم کس لیے مجھ سے اجنبی ہو تم وقت کی بے شمار گھڑیاں ہیں اور مرے دل میں ہر گھڑی ہو تم جس کو دیکھا ہے خواب میں اکثر مجھ کو لگتا ہے بس وہی ہو تم تم بظاہر تو دور رہتی ہو ایسا لگتا ہے پاس بھی ہو تم کس لئے مجھ سے روٹھ جاتی ہو میرے آنگن کی چاندنی ہو تم وقت بدلا تو ...

    مزید پڑھیے

    اجڑی ہوئی آنکھوں میں ستارے نہیں ملتے

    اجڑی ہوئی آنکھوں میں ستارے نہیں ملتے دریائے محبت کے کنارے نہیں ملتے اس دور میں اطفال کو بہلانے کی خاطر بارود تو ملتا ہے غبارے نہیں ملتے مطلب ہو تو ہر موڑ پہ مل جاتے ہیں ہمدرد مشکل میں کبھی یار پیارے نہیں ملتے بیٹھے ہیں کوئی قاصد یار آئے ادھر بھی مدت ہوئی مکتوب تمہارے نہیں ...

    مزید پڑھیے

    اس کی زلفوں میں ابھی پھول لگانا تھا مجھے

    اس کی زلفوں میں ابھی پھول لگانا تھا مجھے اور رخسار پہ اک چاند بنانا تھا مجھے اس نے اچھا کیا آغاز سفر میں چھوڑا آخر اک روز اسے چھوڑ کے جانا تھا مجھے دوستوں نے بھی اڑایا ہے محبت کا مذاق دوستوں سے بھی محبت کو چھپانا تھا مجھے اپنی بربادی کا شکوہ بھی کروں تو کس سے آخر اس دل نے بھی یہ ...

    مزید پڑھیے

    کوئی تو چاہیے ہم کو سہارا تیرے بعد

    کوئی تو چاہیے ہم کو سہارا تیرے بعد اداس اداس رہا شہر سارا تیرے بعد جو آسماں پہ ہمارے لیے چمکتا تھا وہ مجھ سے روٹھ گیا ہے ستارہ تیرے بعد لگا کے زخموں پہ مرہم تمہاری یادوں کا کچھ ایسے دل کو مری جاں سنوارا تیرے بعد تو ساتھ تھا تو میں سب جھیلتا تھا دنیا کو کسی کے ناز کروں کیوں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2