کبھی تو آؤ مری چشم تر میں شام ڈھلے

کبھی تو آؤ مری چشم تر میں شام ڈھلے
کہ کوئی آتا نہیں اس نگر میں شام ڈھلے


میں اپنے چہرے پہ خوشیاں سجائے پھرتا ہوں
چراغ جلتے ہیں اشکوں کے گھر میں شام ڈھلے


میں بن کے چاند اسے راستہ دکھاتا رہوں
کبھی تو مجھ کو ملے وہ سفر میں شام ڈھلے


نہ آئی راس ہمیں آپ کی مسیحائی
کہ درد اٹھتا ہے اب بھی جگر میں شام ڈھلے


یہ ایک اور شکایت بھی تجھ سے کرنی تھی
کہ چاند آتا نہیں میرے گھر میں شام ڈھلے


خلیلؔ وہم ہے میرا یا بد حواسی ہے
یہاں پہ صبح چلے اور نظر میں شام ڈھلے