مشکل میں مجھے اس کا سہارا بھی بہت تھا

مشکل میں مجھے اس کا سہارا بھی بہت تھا
وہ شخص مجھے جان سے پیارا بھی بہت تھا


یہ کم ہے کہ کچھ دن وہ مرے ساتھ رہا ہے
تنہا تھا تو یادوں کا سہارا بھی بہت تھا


تنہائی اداسی یہ سیہ رات یہ جل تھل
ایسے میں تو اک ٹوٹا ستارہ بھی بہت تھا


اک میں کہ چلا آیا کوئی قدر نہیں کی
اس نے تو مرا نام پکارا بھی بہت تھا


کچھ میری بھی کم فہمی تھی میں ہو گیا اس کا
شیشے میں خلیلؔ اس نے اتارا بھی بہت تھا