صحرا تو پار کر لیا دریا بھی پار کر
صحرا تو پار کر لیا دریا بھی پار کر
کس نے کہا تھا تجھ سے کہ عشق اختیار کر
میں نے کہا تھا شہر میں کئی با وفا بھی ہیں
یہ تو نہیں کہا تھا کہ جا اعتبار کر
بجھتا ہوا چراغ یہ فریاد کر گیا
نفرت ہوا سے اور چراغوں سے پیار کر
برسوں سے اک مقام پہ ٹھہرا ہوں میں خلیلؔ
اس نے کہا تھا آؤں گا تو انتظار کر