مجھ کو تنہائیوں سے پیار بھی ہے

مجھ کو تنہائیوں سے پیار بھی ہے
تیرے آنے کا انتظار بھی ہے


تو مجھے بے وفا سا لگتا ہے
تیرے وعدے پہ اعتبار بھی ہے


مدتوں بعد سر ہے سجدے میں
بے قراری بھی ہے قرار بھی ہے


جس نے میرا سکون چھینا ہے
میرا دشمن بھی میرا یار بھی ہے


کس لئے یوں اداس بیٹھے ہو
اپنا گھر بھی ہے کاروبار بھی ہے


تو بھی کچھ بدلا بدلا سا ہے خلیلؔ
میری آنکھوں میں کچھ خمار بھی ہے