جانے دل کا آنکھ سے کیسا رشتہ ہے

جانے دل کا آنکھ سے کیسا رشتہ ہے
چوٹ لگے تو آنکھ سے آنسو بہتا ہے


پل پل نئے ٹھکانے ڈھونڈھتا رہتا ہے
میرا دل بھی نئے پرندے جیسا ہے


میرے دل کے اجڑے اجڑے صحرا میں
ایک دیا سا جلتا بجھتا رہتا ہے


دیکھنا کالے بادلوں نے نہ ڈھانکا ہو
اپنی مرضی سے کب سورج چھپتا ہے


کون لکھے گا ڈھلتے سورج کا قصہ
جو لکھتا ہے چاند کی باتیں لکھتا ہے


پل پل رنگ بدلتی دنیا میں اے دوست
اپنے خون سے تو پانی بھی مہنگا ہے


تو بھی ہے لا علم خلیلؔ کے سینے میں
تیری یادوں کا اک تپتا صحرا ہے