Daud Ghazi

داؤد غازی

ترقی پسند نظریات سے متأثر شاعر، کم عمری میں خودکشی کی

A poet influenced by progressive thoughts, committed suicide at an early age

داؤد غازی کی غزل

    ستم کا خوف نہیں ہے الم کی بات نہیں

    ستم کا خوف نہیں ہے الم کی بات نہیں رہ طلب میں کسی پیچ و خم کی بات نہیں وصال یار کی امید بھی عجب شے ہے ہزار غم ہیں مگر پھر بھی غم کی بات نہیں چلو کہ مل کے مداوائے غم کریں ہم لوگ ہے سب کو ایک ہی غم بیش و کم کی بات نہیں تمہاری زلف ہے ممکن ہے خود سنور جائے تمہاری زلف میں کچھ پیچ و خم کی ...

    مزید پڑھیے

    آ کے ساحل کے قریں جاتا ہوں ساحل سے پرے

    آ کے ساحل کے قریں جاتا ہوں ساحل سے پرے آ کے منزل پر چلا جاتا ہوں منزل سے پرے اپنی منزل پر پہنچ کر سوچنے لگتا ہوں میں اف رے وہ منظر سہانا ہے جو منزل سے پرے دیکھ وہ لہروں کا منظر دیکھ وہ طوفاں کا کھیل دیکھ اے ساحل‌ نشیں کیا شے ہے ساحل سے پرے رات دن دیتی ہی رہتی ہے ترے جلوؤں کا ...

    مزید پڑھیے

    غم حیات میں جیسے بھی زندگی کی ہے

    غم حیات میں جیسے بھی زندگی کی ہے تمہاری یاد تو لیکن کبھی کبھی کی ہے جو غم ملا تھا تو یہ چاہا غم زیاد ملے سیاہ شب میں تمنائے روشنی کی ہے حیات ساتھ میں لائی ہے موت کا ساماں کسی نے ہم سے بہت خوب دل لگی کی ہے یہ غم کی رات نہیں جس کی انتہا کوئی ترے بغیر بسر کچھ عجیب سی کی ہے نگاہ یار ...

    مزید پڑھیے

    تمام وقت تمہیں سے کلام کرتے ہیں

    تمام وقت تمہیں سے کلام کرتے ہیں شب فراق کا یوں اہتمام کرتے ہیں سجائے رکھتے ہیں ہر وقت ہم نئے دن رات تمہارے واسطے یہ التزام کرتے ہیں خیال یار سے کرتے ہیں صبح کا آغاز امید یار کے سائے میں شام کرتے ہیں کہاں مٹے ہیں کسی سے نقوش اہل شوق جو نا سمجھ ہیں وہ یہ سعیٔ خام کرتے ہیں چھپا کے ...

    مزید پڑھیے

    جذبۂ نو بھی تو ہے حسرت ناکام کے ساتھ

    جذبۂ نو بھی تو ہے حسرت ناکام کے ساتھ خواہش صبح ابھرتی تو ہے ہر شام کے ساتھ ہو وہ تحسین کے ہم راہ کہ دشنام کے ساتھ آ تو جاتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ تیرے کوچے سے بھی گزرا ہوں میں اے حسن طلب صبح کے ساتھ کبھی اور کبھی شام کے ساتھ مشکلیں راہ میں آتی تو بہت ہیں لیکن یاد کر لیتا ہوں ...

    مزید پڑھیے

    مزاج عالم امکاں ہے برہم دیکھیے کیا ہو

    مزاج عالم امکاں ہے برہم دیکھیے کیا ہو ستم کش پے بہ پے ہوتے ہیں باہم دیکھیے کیا ہو گئے وہ دن کہ آوازوں پہ خاموشی کا پہرہ تھا بہ ہر سو گونجتا ہے سوز پیہم دیکھیے کیا ہو یہ کیسا رنگ محفل ہے پریشاں ہے بہت ساقی بنے بیٹھے ہیں سب مے خوار ہمدم دیکھیے کیا ہو چمن میں رنگ لائے گی صبا کی ...

    مزید پڑھیے

    دن ہو یا رات ہم کو چلنا ہے

    دن ہو یا رات ہم کو چلنا ہے ہم کو چلنا ہے شب کو ڈھلنا ہے شدت غم سے لڑکھڑاتے ہیں لڑکھڑا کر مگر سنبھلنا ہے دوستو کارواں بنا کے چلو رہ گزاروں کا رخ بدلنا ہے ہر غم زیست ہے قبول مگر ہر غم زیست کو بدلنا ہے

    مزید پڑھیے

    جب تصور میں کسی کو پاس پا لیتا ہوں میں

    جب تصور میں کسی کو پاس پا لیتا ہوں میں اک نرالے کیف کو دل میں بسا لیتا ہوں میں جب بھی یاد آتی ہیں تیرے گیسوؤں کی راحتیں رات کی تاریکیوں میں مسکرا لیتا ہوں میں چاہتا ہوں جب کہ تیری یاد کو روشن کروں غم کی وادی میں نئی شمعیں جلا لیتا ہوں میں راہ میں سوکھا ہوا پتہ بھی ملتا ہے اگر اس ...

    مزید پڑھیے